Skip to content
خواجہ حیدر علی آتش خواجہ حیدر علی آتش

تازہ ہو دماغ اپنا تمنا ہے تو یہ ہے

تازہ ہو دماغ اپنا تمنا ہے تو یہ ہے اس زلف کی بو سونگھئے سودا ہے تو یہ ہے قینچی نہیں چلوائی مرے نامہ نے کس پر پروار کبوتر ہو جو عنقا ہے تو یہ ہے کچھ سرو کا رتبہ ہی نہیں قد سے ترے پست شمشاد او صنوبر سے بھی بالا ہے تو یہ ہے ملتا جو نہیں یار تو ہم بھی نہیں ملتے غیرت کا اب اپنے بھی تقاضا ہے تو یہ ہے اے نور نظر معجزۂ حسن سے تیرے اندھے بھی کہیں گے کہ مسیحا ہے تو یہ ہے محشر کو بھی دیدار کا پردہ نہ کرے یار عاشق کو جو اندیشۂ فردا ہے تو یہ ہے بینا ہوں جو آنکھیں تو رخ یار کو دیکھیں نظارہ کے قابل جو تماشا ہے تو یہ ہے مضموں دہن یار کا کیا فکر سے نکلے لاحل جو معموں میں معما ہے تو یہ ہے گہہ یاد صنم دل میں ہے گہہ یاد الٰہی کعبہ ہے تو یہ ہے جو کلیسا ہے تو یہ ہے معشوق و مے و خانۂ خالی و شب ماہ عاشق کے لیے حاصل دنیا ہے تو یہ ہے دیوانے نہ کیوں کر خل و زنجیر پہنتے سرکار جنوں کا جو سراپا ہے تو یہ ہے دل کے لیے ہے عشق تو دل عشق کی خاطر مے ہے تو یہ ہے اور جو مینا ہے تو یہ ہے دیوانۂ قد کے کبھی نالوں کو تو سنیے ہنگامۂ محشر کا سا غوغا ہے تو یہ ہے ثابت دہن یار دلیلوں سے کر آتشؔ حجت کی جو شاعر کے لیے جا ہے تو یہ ہے
خواجہ حیدر علی آتش

خواجہ حیدر علی آتش

View profile

خواجہ حیدر علی آتش خواجہ علی بخش کے بیٹے تھے۔ بزرگوں کا وطن بغداد تھا جو تلاش معاش میں شاہجہان آباد چلے آئے۔ نواب شجاع الدولہ کے زمانے میں خواجہ علی بخش نے ہجرت کرکے فیض آباد میں سکونت اختیار کی۔ آتش کی ولادت یہیں 1778ءمیں ہوئی ۔ بچپن ہی میں باپ کا سایہ سر سے اُٹھ گیا۔ اس لیے آتش کی تعلیم و تربیت باقاعدہ طور پر نہ ہو سکی اور مزاج میں شوریدہ سری اور بانکپن پیدا ہو گیا۔ آتش نے فیض آباد کے نواب محمد تقی خاں کی ملازمت اختیار کر لی اور ان کے ساتھ لکھنؤ چلے آئے۔ نواب مذاق سخن بھی رکھتے تھے۔ اور فن سپاہ گری کے بھی دل دادہ تھے۔ آتش بھی ان کی شاعرانہ سپاہیانہ صلاحیتوں سے متاثر ہوئے۔ لکھنؤ میں علمی صحبتوں اور انشاء و مصحفی کی شاعرانہ معرکہ آرائیوں کو دیکھ کر شعر و سخن کا شوق پیدا ہوا۔ اور مضحفی کے شاگرد ہو گئے۔ تقریباً 29 سال کی عمر میں باقاعدہ شعر گوئی کا آغاز ہوا۔ لکھنؤ پہنچنے کے کچھ عرصہ بعد نواب تقی خاں کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد انہوں نے کسی کی ملازمت اختیار نہیں کی۔ آخری وقت میں بینائی جاتی رہی۔ 1846ء میں انتقال ہوا۔ آتش نے نہایت سادہ زندگی بسر کی۔ کسی دربار سے تعلق پیدا نہ کیا اور نہ ہی کسی کی مدح میں کوئی قصیدہ کہا۔ قلیل آمدنی اور تنگ دستی کے باوجود خاندانی وقار کو قائم رکھا۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR