Skip to content
خواجہ حیدر علی آتش خواجہ حیدر علی آتش

قدرت حق ہے صباحت سے تماشا ہے وہ رخ

قدرت حق ہے صباحت سے تماشا ہے وہ رخ خال مشکیں دل فرعوں ید بیضا ہے وہ رخ نور جو اس میں ہے خورشید میں وہ نور کہاں یہ اگر حسن کا چشمہ ہے تو دریا ہے وہ رخ پھوٹے وہ آنکھ جو دیکھے نگہ بد سے اسے آئینہ سے دل عارف کے مصفا ہے وہ رخ بزم عالم ہے توجہ سے اسی کے آباد شہر ویراں ہے اگر جانب صحرا ہے وہ رخ سامری چشم فسوں گر کی فسوں سازی سے لب جاں بخش کے ہونے سے مسیحا ہے وہ رخ دم نظارہ لڑے مرتے ہیں عاشق اس پر دولت حسن کے پیش آنے سے دنیا ہے وہ رخ سایہ کرتے ہیں ہما اڑ کے پروں سے اپنے تیرے رخسار سے دلچسپ ہو عنقا ہے وہ رخ گل غلط لالہ غلط مہر غلط ماہ غلط کوئی ثانی نہیں لا ثانی ہے یکتا ہے وہ رخ کون سا اس میں تکلف نہیں پاتے ہر چند نہ مرصع نہ مذہب نہ مطلا ہے وہ رخ خال ہندو ہیں پرستش کے لیے آئے ہیں پتلیاں آنکھوں کی دو بت ہیں کلیسا ہے وہ رخ کون سا دل ہے جو دیوانہ نہیں ہے اس کا خط شب رنگ سے سرمایۂ سودا ہے وہ رخ اس کے دیدار کی کیوں کر نہ ہوں آنکھیں مشتاق دل ربا شے ہے عجب صورت زیبا ہے وہ رخ تا کجا شرح کروں حسن کے اس کے آتشؔ مہر ہے ماہ ہے جو کچھ ہے تماشا ہے وہ رخ
خواجہ حیدر علی آتش

خواجہ حیدر علی آتش

View profile

خواجہ حیدر علی آتش خواجہ علی بخش کے بیٹے تھے۔ بزرگوں کا وطن بغداد تھا جو تلاش معاش میں شاہجہان آباد چلے آئے۔ نواب شجاع الدولہ کے زمانے میں خواجہ علی بخش نے ہجرت کرکے فیض آباد میں سکونت اختیار کی۔ آتش کی ولادت یہیں 1778ءمیں ہوئی ۔ بچپن ہی میں باپ کا سایہ سر سے اُٹھ گیا۔ اس لیے آتش کی تعلیم و تربیت باقاعدہ طور پر نہ ہو سکی اور مزاج میں شوریدہ سری اور بانکپن پیدا ہو گیا۔ آتش نے فیض آباد کے نواب محمد تقی خاں کی ملازمت اختیار کر لی اور ان کے ساتھ لکھنؤ چلے آئے۔ نواب مذاق سخن بھی رکھتے تھے۔ اور فن سپاہ گری کے بھی دل دادہ تھے۔ آتش بھی ان کی شاعرانہ سپاہیانہ صلاحیتوں سے متاثر ہوئے۔ لکھنؤ میں علمی صحبتوں اور انشاء و مصحفی کی شاعرانہ معرکہ آرائیوں کو دیکھ کر شعر و سخن کا شوق پیدا ہوا۔ اور مضحفی کے شاگرد ہو گئے۔ تقریباً 29 سال کی عمر میں باقاعدہ شعر گوئی کا آغاز ہوا۔ لکھنؤ پہنچنے کے کچھ عرصہ بعد نواب تقی خاں کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد انہوں نے کسی کی ملازمت اختیار نہیں کی۔ آخری وقت میں بینائی جاتی رہی۔ 1846ء میں انتقال ہوا۔ آتش نے نہایت سادہ زندگی بسر کی۔ کسی دربار سے تعلق پیدا نہ کیا اور نہ ہی کسی کی مدح میں کوئی قصیدہ کہا۔ قلیل آمدنی اور تنگ دستی کے باوجود خاندانی وقار کو قائم رکھا۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR