Skip to content
خواجہ حیدر علی آتش خواجہ حیدر علی آتش

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا کیا کیا الجھتا ہے تری زلفوں کے تار سے بخیہ طلب ہے سینۂ صد چاک شانہ کیا زیر زمیں سے آتا ہے جو گل سو زر بکف قاروں نے راستے میں لٹایا خزانہ کیا اڑتا ہے شوق راحت منزل سے اسپ عمر مہمیز کہتے ہیں گے کسے تازیانہ کیا زینہ صبا کا ڈھونڈتی ہے اپنی مشت خاک بام بلند یار کا ہے آستانہ کیا چاروں طرف سے صورت جاناں ہو جلوہ گر دل صاف ہو ترا تو ہے آئینہ خانہ کیا صیاد اسیر دام رگ گل ہے عندلیب دکھلا رہا ہے چھپ کے اسے دام و دانہ کیا طبل و علم ہی پاس ہے اپنے نہ ملک و مال ہم سے خلاف ہو کے کرے گا زمانہ کیا آتی ہے کس طرح سے مرے قبض روح کو دیکھوں تو موت ڈھونڈ رہی ہے بہانہ کیا ہوتا ہے زرد سن کے جو نامرد مدعی رستم کی داستاں ہے ہمارا فسانہ کیا ترچھی نگہ سے طائر دل ہو چکا شکار جب تیر کج پڑے تو اڑے گا نشانہ کیا صیاد گل عذار دکھاتا ہے سیر باغ بلبل قفس میں یاد کرے آشیانہ کیا بیتاب ہے کمال ہمارا دل حزیں مہماں سرائے جسم کا ہوگا روانہ کیا یوں مدعی حسد سے نہ دے داد تو نہ دے آتشؔ غزل یہ تو نے کہی عاشقانہ کیا
خواجہ حیدر علی آتش

خواجہ حیدر علی آتش

View profile

خواجہ حیدر علی آتش خواجہ علی بخش کے بیٹے تھے۔ بزرگوں کا وطن بغداد تھا جو تلاش معاش میں شاہجہان آباد چلے آئے۔ نواب شجاع الدولہ کے زمانے میں خواجہ علی بخش نے ہجرت کرکے فیض آباد میں سکونت اختیار کی۔ آتش کی ولادت یہیں 1778ءمیں ہوئی ۔ بچپن ہی میں باپ کا سایہ سر سے اُٹھ گیا۔ اس لیے آتش کی تعلیم و تربیت باقاعدہ طور پر نہ ہو سکی اور مزاج میں شوریدہ سری اور بانکپن پیدا ہو گیا۔ آتش نے فیض آباد کے نواب محمد تقی خاں کی ملازمت اختیار کر لی اور ان کے ساتھ لکھنؤ چلے آئے۔ نواب مذاق سخن بھی رکھتے تھے۔ اور فن سپاہ گری کے بھی دل دادہ تھے۔ آتش بھی ان کی شاعرانہ سپاہیانہ صلاحیتوں سے متاثر ہوئے۔ لکھنؤ میں علمی صحبتوں اور انشاء و مصحفی کی شاعرانہ معرکہ آرائیوں کو دیکھ کر شعر و سخن کا شوق پیدا ہوا۔ اور مضحفی کے شاگرد ہو گئے۔ تقریباً 29 سال کی عمر میں باقاعدہ شعر گوئی کا آغاز ہوا۔ لکھنؤ پہنچنے کے کچھ عرصہ بعد نواب تقی خاں کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد انہوں نے کسی کی ملازمت اختیار نہیں کی۔ آخری وقت میں بینائی جاتی رہی۔ 1846ء میں انتقال ہوا۔ آتش نے نہایت سادہ زندگی بسر کی۔ کسی دربار سے تعلق پیدا نہ کیا اور نہ ہی کسی کی مدح میں کوئی قصیدہ کہا۔ قلیل آمدنی اور تنگ دستی کے باوجود خاندانی وقار کو قائم رکھا۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR