Skip to content
خواجہ حیدر علی آتش خواجہ حیدر علی آتش

دل لگی اپنی ترے ذکر سے کس رات نہ تھی

دل لگی اپنی ترے ذکر سے کس رات نہ تھی صبح تک شام سے یاہو کے سوا بات نہ تھی التجا تجھ سے کب اے قبلۂ حاجات نہ تھی تیری درگاہ میں کس روز مناجات نہ تھی اب ملاقات ہوئی ہے تو ملاقات رہے نہ ملاقات تھی جب تک کہ ملاقات نہ تھی غنچۂ گل کو نہ ہنسنا تھا تری صورت سے چھوٹے سے منہ کی سزاوار بڑی بات نہ تھی ابتدا سے تجھے موجود سمجھتا تھا میں مرے تیرے کبھی پردے کی ملاقات نہ تھی اے نسیم سحری بہر اسیران قفس تحفہ تر نکہت گل سے کوئی سوغات نہ تھی ان دنوں عشق رلاتا تھا ہمیں صورت ابر کون سی فصل تھی وہ جس میں کہ برسات نہ تھی کیا کہوں اس کے جو مجھ پر کرم پنہاں تھے ظاہری یار سے ہر چند ملاقات نہ تھی اپنے باندھے ہوئے گاتی تجھے دیکھا پھڑکا دل ربا شے تھی مری جان تری گات نہ تھی اک میں مل گئے اے شاہ سوار اہل نیاز ناز معشوق تھا تو سن کی ترے لات نہ تھی لب کے بوسہ کا ہے انکار تعجب اے یار پھیرے سائل سے جو منہ کو وہ تری ذات نہ تھی کمر یار تھی ازبسکہ نہایت نازک سوجھتی بندش مضموں کی کوئی گھات نہ تھی ان دنوں ہوتا تھا تو گھر میں ہمارے شب باش روز روشن سے کم اے مہر لقا رات نہ تھی بے شعوروں نے نہ سمجھا تو نہ سمجھا آتشؔ نکتہ سنجوں کو لطیفہ تھی تری بات نہ تھی
خواجہ حیدر علی آتش

خواجہ حیدر علی آتش

View profile

خواجہ حیدر علی آتش خواجہ علی بخش کے بیٹے تھے۔ بزرگوں کا وطن بغداد تھا جو تلاش معاش میں شاہجہان آباد چلے آئے۔ نواب شجاع الدولہ کے زمانے میں خواجہ علی بخش نے ہجرت کرکے فیض آباد میں سکونت اختیار کی۔ آتش کی ولادت یہیں 1778ءمیں ہوئی ۔ بچپن ہی میں باپ کا سایہ سر سے اُٹھ گیا۔ اس لیے آتش کی تعلیم و تربیت باقاعدہ طور پر نہ ہو سکی اور مزاج میں شوریدہ سری اور بانکپن پیدا ہو گیا۔ آتش نے فیض آباد کے نواب محمد تقی خاں کی ملازمت اختیار کر لی اور ان کے ساتھ لکھنؤ چلے آئے۔ نواب مذاق سخن بھی رکھتے تھے۔ اور فن سپاہ گری کے بھی دل دادہ تھے۔ آتش بھی ان کی شاعرانہ سپاہیانہ صلاحیتوں سے متاثر ہوئے۔ لکھنؤ میں علمی صحبتوں اور انشاء و مصحفی کی شاعرانہ معرکہ آرائیوں کو دیکھ کر شعر و سخن کا شوق پیدا ہوا۔ اور مضحفی کے شاگرد ہو گئے۔ تقریباً 29 سال کی عمر میں باقاعدہ شعر گوئی کا آغاز ہوا۔ لکھنؤ پہنچنے کے کچھ عرصہ بعد نواب تقی خاں کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد انہوں نے کسی کی ملازمت اختیار نہیں کی۔ آخری وقت میں بینائی جاتی رہی۔ 1846ء میں انتقال ہوا۔ آتش نے نہایت سادہ زندگی بسر کی۔ کسی دربار سے تعلق پیدا نہ کیا اور نہ ہی کسی کی مدح میں کوئی قصیدہ کہا۔ قلیل آمدنی اور تنگ دستی کے باوجود خاندانی وقار کو قائم رکھا۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR