Skip to content
خواجہ حیدر علی آتش خواجہ حیدر علی آتش

صورت سے اس کی بہتر صورت نہیں ہے کوئی

صورت سے اس کی بہتر صورت نہیں ہے کوئی دیدار یار سی بھی دولت نہیں ہے کوئی آنکھوں کو کھول اگر تو دیدار کا ہے بھوکا چودہ طبق سے باہر نعمت نہیں ہے کوئی ثابت ترے دہن کو کیا منطقی کریں گے ایسی دلیل ایسی حجت نہیں ہے کوئی یہ کیا سمجھ کے کڑوے ہوتے ہیں آپ ہم سے پی جائے گا کسی کو شربت نہیں ہے کوئی میں نے کہا کبھی تو تشریف لاؤ بولے معذور رکھیے وقت فرصت نہیں ہے کوئی ہم کیا کہیں کسی سے کیا ہے طریق اپنا مذہب نہیں ہے کوئی ملت نہیں ہے کوئی دل لے کے جان کے بھی سائل جو ہو تو حاضر حاضر جو کچھ ہے اس میں حجت نہیں ہے کوئی ہم شاعروں کا حلقہ حلقہ ہے عارفوں کا نا آشنائے معنی صورت نہیں ہے کوئی دیوانوں سے ہے اپنے یہ قول اس پری کا خاکی و آتشی سے نسبت نہیں ہے کوئی ہژدہ ہزار عالم دم بھر رہا ہے تیرا تجھ کو نہ چاہے ایسی خلقت نہیں ہے کوئی نازاں نہ حسن پر ہو مہماں ہے چار دن کا بے اعتبار ایسی دولت نہیں ہے کوئی جاں سے عزیز دل کو رکھتا ہوں آدمی ہوں کیوں کر کہوں میں مجھ کو حسرت نہیں ہے کوئی یوں بد کہا کرو تم یوں مال کچھ نہ سمجھو ہم سا بھی خیر خواہ دولت نہیں ہے کوئی میں پانچ وقت سجدہ کرتا ہوں اس صنم کو مجھ کو بھی ایسی ویسی خدمت نہیں ہے کوئی ما و شما کہہ و مہ کرتا ہے ذکر تیرا اس داستاں سے خالی صحبت نہیں ہے کوئی شہر بتاں ہے آتشؔ اللہ کو کرو یاد کس کو پکارتے ہو حضرت نہیں ہے کوئی
خواجہ حیدر علی آتش

خواجہ حیدر علی آتش

View profile

خواجہ حیدر علی آتش خواجہ علی بخش کے بیٹے تھے۔ بزرگوں کا وطن بغداد تھا جو تلاش معاش میں شاہجہان آباد چلے آئے۔ نواب شجاع الدولہ کے زمانے میں خواجہ علی بخش نے ہجرت کرکے فیض آباد میں سکونت اختیار کی۔ آتش کی ولادت یہیں 1778ءمیں ہوئی ۔ بچپن ہی میں باپ کا سایہ سر سے اُٹھ گیا۔ اس لیے آتش کی تعلیم و تربیت باقاعدہ طور پر نہ ہو سکی اور مزاج میں شوریدہ سری اور بانکپن پیدا ہو گیا۔ آتش نے فیض آباد کے نواب محمد تقی خاں کی ملازمت اختیار کر لی اور ان کے ساتھ لکھنؤ چلے آئے۔ نواب مذاق سخن بھی رکھتے تھے۔ اور فن سپاہ گری کے بھی دل دادہ تھے۔ آتش بھی ان کی شاعرانہ سپاہیانہ صلاحیتوں سے متاثر ہوئے۔ لکھنؤ میں علمی صحبتوں اور انشاء و مصحفی کی شاعرانہ معرکہ آرائیوں کو دیکھ کر شعر و سخن کا شوق پیدا ہوا۔ اور مضحفی کے شاگرد ہو گئے۔ تقریباً 29 سال کی عمر میں باقاعدہ شعر گوئی کا آغاز ہوا۔ لکھنؤ پہنچنے کے کچھ عرصہ بعد نواب تقی خاں کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد انہوں نے کسی کی ملازمت اختیار نہیں کی۔ آخری وقت میں بینائی جاتی رہی۔ 1846ء میں انتقال ہوا۔ آتش نے نہایت سادہ زندگی بسر کی۔ کسی دربار سے تعلق پیدا نہ کیا اور نہ ہی کسی کی مدح میں کوئی قصیدہ کہا۔ قلیل آمدنی اور تنگ دستی کے باوجود خاندانی وقار کو قائم رکھا۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR