ایک بچے اور جگنو کی باتیں


سناؤں تمہیں بات اک رات کی

کہ وہ رات اندھیری تھی برسات کی

چمکنے سے جگنو کے تھا اک سماں

ہوا پر اڑیں جیسے چنگاریاں

پڑی ایک بچہ کی ان پہ نظر

پکڑ ہی لیا ایک کو دوڑ کر

چمکدار کیڑا جو بھایا اسے

تو ٹوپی میں جھٹ پٹ چھپایا اسے

وہ جھم جھم چمکتا ادھر سے ادھر

پھرا کوئی رستہ نہ پایا مگر

تو غمگین قیدی نے کی التجا

جگنو

اے چھوٹے شکاری مجھے کر رہا

خدا کے لئے تو مجھے چھوڑ دے

میری قید کے جال کو توڑ دے

بچہ

کروں گا نہ آزاد اس وقت تک

کہ میں دیکھ لوں دن میں تیری چمک

جگنو

چمک میری دن میں نہ دیکھو گے تم

اجالے میں ہو جائے گی وہ تو گم

بچہ

ارے چھوٹے کیڑے نہ دے دم مجھے

کہ ہے واقفیت ابھی کم تجھے

اجالے میں دن کے کھلے گا کمال

کہ اتنے سے کیڑے میں کیا ہے کمال

دھواں ہے نہ شعلہ نہ گرمی نہ آنچ

چمکنے کی تیرے کروں گا میں جانچ

جگنو

یہ قدرت کی کاریگری ہے جناب

کہ ذرہ کو چمکائے جوں آفتاب

مجھے دی ہے اس واسطے یہ چمک

کہ تم دیکھ کر مجھ کو جاؤ ٹھٹک

نہ الھڑ پنے سے کرو پائمال

سنبھل کر چلو آدمی کی سی چال
اسماعیل میرٹھی
اسماعیل میرٹھی

اسماعیل میرٹھی 12نومبر 1844کو میرٹھ کے ایک محلے مشائخان میں پیدا ہوئے تھے۔ اب یہ علاقہ اسما عیل نگر کے نام سے معروف ہے۔ مولانا اسمٰعیل میرٹھی،12نومبر، 1844 عیسوی کو میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ اب یہ محلہ اسمٰعیل نگر کے نام سے موسوم ہے۔ آپ کے والد کا نام شیخ پیر بخش تھا اور یہی آپ کے پہلے استاد بھی تھے۔ اس دور کے رواج کے مطابق مولانا نے ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی۔ پہلے فارسی اور پھر دس برس کی عمر میں ناظرہ قرآن مجید کی تعلیم مکمل کی۔ 1857 کی جنگِ آزادی کی تحریک کے وقت 14سالہ اسمٰعیل نے محسوس کر لیا تھا کہ اس وقت اس مردہ قوم کو جگانے اور جگائے رکھے کی ضرورت ہے۔ چنانچہ اسی مقصد کے تحت انھوں نے دینی علوم کی تکمیل کے بعد جدیدعلوم سیکھنے پرتوجہ دی، انگریزی میں مہارت حاصل کی، انجنیئرنگ کا کورس پاس کیا، مگر ان علوم سے فراغت کے بعد اعلیٰ ملازمت حاصل کرنے کی بجائے تدریس کا معزز پیشی اختیار کیا تاکہ اس راہ سے قوم کو اپنے کھوئے ہوئے مقام تک واپس لے جانے کی کوشش کریں۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد اسما عیل میرٹھی نے سررشتہ تعلیم میں ملازمت اختیار کی جہاں ان کی ملاقات قلق میرٹھی سے ہوئی۔ قلق میرٹھی نے انگریزی کی پندرہ اخلاقی نظموں کا منظوم ترجمہ ’جواہر منظوم‘ کے نام سے کیا تھا۔ اس منظوم ترجمے نے اسما عیل میرٹھی کو بہت متاثر کیا، جس سے نہ صرف ان کی شاعری میں بلکہ جدید اردو نظم میں وہ انقلاب برپا ہوا کہ اردو ادب جدید نظم کے نادر خزانے سے مالامال ہو گیا۔

زبان اور مصنوعی ذہانت کی روشنی سے مستفید ہوں

طلبہ، اساتذہ، محققین ،اور مختلف شعبہ جات و صنعتوں سے وابستہ افراد کے لیے ایک انقلابی اقدام۔ ۔

لغات

مختلف پاکستانی اور بین الاقوامی لغات کے ذریعے علمی و تحقیقی عمل کو آسان بنائیں۔

محظوظ ہوں

اِملا شناس

اردو اور مختلف عالمی و پاکستانی زبانوں میں املا کی اغلاط کی نشاندہی اور تصحیح کیجیے۔

ابھی آزمائیں

حرف شناس

جدید ٹیکنالوجی (حرف شناس) کے ذریعے تصاویر کو قابلِ ترمیم متن میں تبدیل کیجیے۔

استعمال کریں