مدرسے جا رہا ہے ٹوٹ بٹوٹ

آج چپ چاپ سب کھڑے ہوجاؤ شان سے آرہا ہے ٹوٹ بٹوٹ آج کوئی نہ اور بات کرو مدرسے جا رہا ہے ٹوٹ بٹوٹ مدرسے جا رہا ہے ٹوٹ بٹوٹ ساتھ اپنے وہ لے کے آیا ہے ایک لمبی قطار چوہوں کی پانچ دس بیس کی قطار نہیں پُورے اسّی ہزار چوہوں کی شان سے آرہا ہے ٹوٹ بٹوٹ مدرسے جا رہا ہے ٹوٹ بٹوٹ ساتھ اس کے ہے ایک لومڑی بھی لومڑی کے ہیں ساتھ بندر تین لومڑی تو بچا رہی ہے ڈھول اور بندر بجا رہے ہیں بین اور خود گا رہا ہے ٹوٹ بٹوٹ مدرسے جا رہا ہے ٹوٹ بٹوٹ ایک نوکر اٹھائے ہے کاپی ایک نوکر لیے ہوئے ہے کتاب ایک جھک کر کہے حضور، حضور ایک اُٹھ کر کہے جناب، جناب ٹھاٹھ دکھلا رہا ہے ٹوٹ بٹوٹ مدرسے جا رہا ہے ٹوٹ بٹوٹ گھر میں تو اُس کے کھانے پینے کو دودھ، مکھّن، ملائی ہوتی ہے مدرسے کا نہ حال پوچھیے گا جب بھی دیکھو پٹائی ہوتی ہے جوتیاں کھا رہا ہے ٹوٹ بٹوٹ مدرسے جا رہا ہے ٹوٹ بٹوٹ اِک الف بے بھی اُس کو یاد نہیں قاعدہ سُن لو اُس سے پڑھوا کر گھر سے باہر نکل تو آیا ہے کیا کرے گا وہ مدرسے جا کر دل میں گھبرا رہا ہے ٹوٹ بٹوٹ مدرسے جا رہا ہے ٹوٹ بٹوٹ
صوفی غلام مصطفیٰ تبسم
صوفی غلام مصطفیٰ تبسم

صوفی غلام مصطفٰی تبسم اردو، پنجابی اور فارسی زبانوں کے شاعر تھے۔ آپ بچوں کے مقبول ترین شاعر تھے۔ بڑوں کے لیے بھی بہت کچھ لکھا۔ استاد رہے، ماہانہ لیل و نہار کے مدیر رہے اور براڈ کاسٹر بھی رہے۔ ٹی وی، ریڈیو سے پروگرام "اقبال کا ایک شعر" کرتے تھے۔ صوفی تبسم ہر میدان کے شہسوار تھے۔ نظم ہو یا نثر، غزل ہو یا گیت، ملی نغمے ہوں یا بچوں کی نظمیں۔ کہاں کہاں ان کے نقوش باقی نہیں ہیں۔ ادارہ فیروز سنز سے ان کی بہت سی کتابیں شائع ہوئیں۔ جیسے انجمن، صد شعر اقبال اور دوگونہ۔ علاوہ ازیں بچوں کے لیے بے شمار کتب لکھیں۔ جن میں شہرہ آفاق کتابیں جھولنے، ٹوٹ بٹوٹ، کہاوتیں اور پہلیاں، سنو گپ شب وغیرہ شامل ہیں۔"جھولنے" تو ننھے منے بچوں کے لیے ایسی کتاب ہے جو ہر بچہ اپنے اپنے بچپن میں پڑھتا رہا ہے۔1965ءکی جنگ میں ان کے پاک فوج کے لیے لکھے جانے والے نغمات نے بڑی شہرت حاصل کی صوفی تبسم کے بزرگوں کا وطن کشمیر تھا۔ دادا شیخ احمد صوفی نان بائی تھے۔ جب کشمیر میں قحط پڑا تو انہوں نے دیگر کشمیری خاندانوں کی طرح پنجاب کا رخ کیا اور امرتسر میں آباد ہوئے۔ صوفی تبسم نے چرچ مشن ہائی اسکول، امرتسر سے میٹرک اور خالصہ کالج، امرتسر سے ایف اے امتحان پاس کیا۔ اسی کالج میں بی اے کے لئے داخلہ لیا مگر اسی زمانے میں ان کی علامہ عرشی امرتسری سے دوستی ہو گئی۔ فیروزالدین کی شاگردی میں شعر و شاعری کا چسکا پڑا اور تعلیم کی طرف توجہ نہ رہی اور بی اے کا امتحان پاس نہ کیا۔ لاہورآ کر ایف سی کالج میں داخلہ لیا اور 1923ء میں فارسی آنرز میں بی اے کیا۔ 1924ء میں اسلامیہ کالج، لاہور سے فارسی میں ایم اے کیا۔ صوفی تبسم نے ملازمت کا آغاز گورنمنٹ آف انڈیا آرمی ہیڈ کوارٹرز میڈیکل ڈائریکٹوریٹ سے کیا۔ 1927ء تک وہ امرتسر رہے۔ وہاں انگلش ٹیچر گورنمنٹ ہائی سکول اور اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ انسپکٹر اسکول رہے۔ 1927ء میں لاہور آ گئے اور لیکچرار ٹرنینگ کالج، لیکچرار فارسی گورنمنٹ کالج، صدر شعبہ فارسی گونمنٹ کالج، لاہور ہوئے۔ اس کے علاوہ خانہ فرہنگ ایران کے ڈائریکٹر، ہفت روزہ لیل و نہار کے مدیر رہے۔ ریڈیو پاکستان لاہور، رائٹر ریڈیو پاکستان کے لئے بھی کام کیا۔ ایم اے پنجابی یونیورسٹی اورئینٹل کالج، پریذیڈنت پاکستان آرٹس کونسل میں تدریسی خدمات انجام دی اور اقبال اکیڈمی پاکستان کےوائس پریذیڈنٹ بھی رہے۔ وہ مختلف رسائل کے اعزازی مدیر اور نگراں بھی رہے۔ صوفی تبسم کی شاعری کے دو مجموعے انجمن 1961ء میں اور دامن دل 1986ء میں شائع ہوئے۔ بچوں کے لئے تین مجموعے جھولنے، ٹوٹ بٹوٹ اور ٹول مٹول لکھے۔

More poems from same author

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR