Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

ہے خاک جیسے ریگ رواں سب نہ آب ہے

ہے خاک جیسے ریگ رواں سب نہ آب ہے دریاے موج خیز جہاں کا سراب ہے روز شمار میں بھی محاسب ہے گر کوئی تو بے حساب کچھ نہ کر آخر حساب ہے اس شہر دل کو تو بھی جو دیکھے تو اب کہے کیا جانیے کہ بستی یہ کب کی خراب ہے منھ پر لیے نقاب تو اے ماہ کیا چھپے آشوب شہر حسن ترا آفتاب ہے کس رشک گل کی باغ میں زلف سیہ کھلی موج ہوا میں آج نپٹ پیچ و تاب ہے کیا دل مجھے بہشت میں لے جائے گا بھلا جس کے سبب یہ جان پہ میری عذاب ہے سن کان کھول کر کہ تنک جلد آنکھ کھول غافل یہ زندگانی فسانہ ہے خواب ہے رہ آشناے لطف حقیقت کے بحر کا ہے رشک زلف و چشم جو موج حباب ہے آتش ہے سوز سینہ ہمارا مگر کہ میر نامے سے عاشقوں کے کبوتر کباب ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR