Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

خنجر بہ کف وہ جب سے سفاک ہو گیا ہے

خنجر بہ کف وہ جب سے سفاک ہو گیا ہے ملک ان ستم زدوں کا سب پاک ہو گیا ہے جس سے اسے لگائوں روکھا ہی ہو ملے ہے سینے میں جل کر ازبس دل خاک ہو گیا ہے کیا جانوں لذت درد اس کی جراحتوں کی یہ جانوں ہوں کہ سینہ سب چاک ہو گیا ہے صحبت سے اس جہاں کی کوئی خلاص ہو گا اس فاحشہ پہ سب کو امساک ہو گیا ہے دیوار کہنہ ہے یہ مت بیٹھ اس کے سائے اٹھ چل کہ آسماں تو کا واک ہو گیا ہے شرم و حیا کہاں کی ہر بات پر ہے شمشیر اب تو بہت وہ ہم سے بے باک ہو گیا ہے ہر حرف بسکہ رویا ہے حال پر ہمارے قاصد کے ہاتھ میں خط نمناک ہو گیا ہے زیر فلک بھلا تو رووے ہے آپ کو میر کس کس طرح کا عالم یاں خاک ہو گیا ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR