Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

دل جو پر بے قرار رہتا ہے

دل جو پر بے قرار رہتا ہے آج کل مجھ کو مار رہتا ہے تیرے بن دیکھے میں مکدر ہوں آنکھوں پر اب غبار رہتا ہے جبر یہ ہے کہ تیری خاطر دل روز بے اختیار رہتا ہے دل کو مت بھول جانا میرے بعد مجھ سے یہ یادگار رہتا ہے دور میں چشم مست کے تیری فتنہ بھی ہوشیار رہتا ہے بسکہ تیرا ہوا بلا گرداں سر کو میرے دوار رہتا ہے ہر گھڑی رنجش ایسی باتوں میں کوئی اخلاص و پیار رہتا ہے تجھ بن آئے ہیں تنگ جینے سے مرنے کا انتظار رہتا ہے دل کو گو ہاتھ میں رکھو اب تم کوئی یہ بے قرار رہتا ہے غیر مت کھا فریب خلق اس کا کوئی دم میں وہ مار رہتا ہے پی نہ ہرگز شراب جیسا چاہ اس کے نشے کا تار رہتا ہے پر ہو پیمانہ عمر کا جب تک تب تلک یہ خمار رہتا ہے دلبرو دل چراتے ہو ہر دم یوں کہیں اعتبار رہتا ہے کیوں نہ ہووے عزیز دلہا میر کس کے کوچے میں خوار رہتا ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR