Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

کم فرصتی گل جو کہیں کوئی نہ مانے

کم فرصتی گل جو کہیں کوئی نہ مانے ایسے گئے ایام بہاراں کہ نہ جانے تھے شہر میں اے رشک پری جتنے سیانے سب ہو گئے ہیں شور ترا سن کے دوانے ہمراہ جوانی گئے ہنگامے اٹھانے اب ہم بھی نہیں وے رہے نے وے ہیں زمانے پیری میں جو باقی نہیں جامے میں تو کیا دور پھٹنے لگے ہیں کپڑے جو ہوتے ہیں پرانے مرتے ہی سنے ہم نے کسل مند محبت اس درد میں کس کس کو کیا نفع دوا نے ہے کس کو میسر تری زلفوں کی اسیری شانے کے نصیبوں میں تھے یوں ہاتھ بندھانے ٹک آنکھ بھی کھولی نہ زخود رفتہ نے اس کے ہرچند کیا شور قیامت نے سرہانے لوہے کے توے ہیں جگر اہل محبت رہتے ہیں ترے تیرستم ہی کے نشانے کاہے کو یہ انداز تھا اعراض بتاں کا ظاہر ہے کہ منھ پھر لیا ہم سے خدا نے ان ہی چمنوں میں کہ جنھوں میں نہیں اب چھائوں کن کن روشوں ہم کو پھرایا ہے ہوا نے کب کب مری عزت کے لیے بیٹھے ہو ٹک پاس آئے بھی جو ہو تو مجھے مجلس سے اٹھانے پایا ہے نہ ہم نے دل گم گشتہ کو اپنے خاک اس کی سرراہ کی کوئی کب تئیں چھانے کچھ تم کو ہمارے جگروں پر بھی نظر ہے آتے جو ہو ہر شام و سحر تیر لگانے مجروح بدن سنگ سے طفلاں کے نہ ہوتے کم جاتے جو اس کوچے میں پر ہم تھے دوانے آنے میں تعلل ہی کیا عاقبت کار ہم جی سے گئے پر نہ گئے اس کے بہانے گلیوں میں بہت ہم تو پریشاں سے پھرے ہیں اوباش کسو روز لگا دیں گے ٹھکانے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR