Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

نہیں وسواس جی گنوانے کے

نہیں وسواس جی گنوانے کے ہائے رے ذوق دل لگانے کے میرے تغئیر حال پر مت جا اتفاقات ہیں زمانے کے دم آخر ہی کیا نہ آنا تھا اور بھی وقت تھے بہانے کے اس کدورت کو ہم سمجھتے ہیں ڈھب ہیں یہ خاک میں ملانے کے بس ہیں دو برگ گل قفس میں صبا نہیں بھوکے ہم آب و دانے کے مرنے پر بیٹھے ہیں سنو صاحب بندے ہیں اپنے جی چلانے کے اب گریباں کہاں کہ اے ناصح چڑھ گیا ہاتھ اس دوانے کے چشم نجم سپہر جھپکے ہے صدقے اس انکھڑیاں لڑانے کے دل و دیں ہوش و صبر سب ہی گئے آگے آگے تمھارے آنے کے کب تو سوتا تھا گھر مرے آکر جاگے طالع غریب خانے کے مژہ ابرو نگہ سے اس کی میر کشتہ ہیں اپنے دل لگانے کے تیر و تلوار و سیل یک جا ہیں سارے اسباب مار جانے کے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR