Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

مرے اس رک کے مرجانے سے وہ غافل ہے کیا جانے

مرے اس رک کے مرجانے سے وہ غافل ہے کیا جانے گذرنا جان سے آساں بہت مشکل ہے کیا جانے کوئی سر سنگ سے مارو کسی کا واپسیں دم ہو وہ آئینے میں اپنے ناز پر مائل ہے کیا جانے نظر مطلق نہیں ہجراں میں اس کو حال پر میرے مرا دل اس کے غم میں گویا اس کا دل ہے کیا جانے جنونی خبطی دیوانہ سڑا کوئی عشق کو سمجھے فلاطوں سے نہیں یاں بحث وہ عاقل ہے کیا جانے تڑپنا نقش پاے ناقہ پر جانے ہے اک مجنوں بیاباں میں وہ لیلیٰ کا کدھر محمل ہے کیا جانے پڑھایا اس کو بہتیرا کہ مت لا راز دل منھ پر پہ طفل اشک کو دیکھا تو ناقابل ہے کیا جانے طرف ہونا مرا مشکل ہے میر اس شعر کے فن میں یوہیں سوداؔ کبھو ہوتا ہے سو جاہل ہے کیا جانے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR