Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

دن کو نہیں ہے چین نہ ہے خواب شب مجھے

دن کو نہیں ہے چین نہ ہے خواب شب مجھے مرنا پڑا ضرور ترے غم میں اب مجھے ہنگامہ میری نعش پہ تیری گلی میں ہے لے جائیں گے جنازہ کشاں یاں سے کب مجھے ٹک داد میری اہلمحلہ سے چاہیو تجھ بن خراب کرتے رہے ہیں یہ سب مجھے طوفاں بجاے اشک ٹپکتے تھے چشم سے اے ابر تر دماغ تھا رونے کا جب مجھے دو حرف اس کے منھ کے تو لکھ بھیجیو شتاب قاصد چلا ہے چھوڑ کے تو جاں بلب مجھے کچھ ہے جواب جو میں کروں حشر کو سوال مارا تھا تونے جان سے کہہ کس سبب مجھے غیراز خموش رہنے کہ ہونٹوں کے سوکھنے لیکن نہیں ہے یار جھگڑنے کا ڈھب مجھے پوچھا تھا راہ جاتے کہیں ان نے میر کو آتا ہے اس کی بات کا اب تک عجب مجھے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR