Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

تیرا خرام دیکھے تو جا سے نہ ہل سکے

تیرا خرام دیکھے تو جا سے نہ ہل سکے کیا جی تدرو کا جو ترے آگے چل سکے اس دل جلے کی تاب کے لانے کو عشق ہے فانوس کی سی شمع جو پردے میں جل سکے کہتا ہے کون تجھ کو کہ اے سینہ رک نہ جا اتنا تو ہو کہ آہ جگر سے نکل سکے گر دوپہر کو اس کو نکلنے دے نازکی حیرت سے آفتاب کی پھر دن نہ ڈھل سکے کیا اس غریب کو ہو سرسایۂ ہما جو اپنی بے دماغی سے مکھی نہ جھل سکے ہے جاے حیف بزم جہاں مل لے اے پتنگ اپنے اپر جو کوئی گھڑی ہاتھ مل سکے ہے وہ بلاے عشق کہ آئے سو آئے ہے کلول نہیں ہے ایسی محبت کہ ٹل سکے کس کو ہے آرزوے افاقت فراق میں ایسا تو ہو کہ کوئی گھڑی جی سنبھل سکے مت ابر چشم کم سے مری چشم تر کو دیکھ چشمہ ہے یہ وہ جس سے کہ دریا ابل سکے کہتا ہے وہ تو ایک کی دس میر کم سخن اس کی زباں کے عہدے سے کیونکر نکل سکے تغئیرقافیہ سے یہ طرحی غزل کہوں تا جس میں زور کچھ تو طبیعت کا چل سکے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR