Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

پھر اس سے طرح کچھ جو دعوے کی سی ڈالی ہے

پھر اس سے طرح کچھ جو دعوے کی سی ڈالی ہے کیا تازہ کوئی گل نے اب شاخ نکالی ہے سچ پوچھو تو کب ہے گا اس کا سا دہن غنچہ تسکیں کے لیے ہم نے اک بات بنا لی ہے دیہی کو نہ کچھ پوچھو اک بھرت کا ہے گڑوا ترکیب سے کیا کہیے سانچے میں کی ڈھالی ہے ہم قد خمیدہ سے آغوش ہوئے سارے پر فائدہ تجھ سے تو آغوش وہ خالی ہے عزت کی کوئی صورت دکھلائی نہیں دیتی چپ رہیے تو چشمک ہے کچھ کہیے تو گالی ہے دو گام کے چلنے میں پامال ہوا عالم کچھ ساری خدائی سے وہ چال نرالی ہے ہے گی تو دو سالہ پر ہے دختررز آفت کیا پیرمغاں نے بھی اک چھوکری پالی ہے خونریزی میں ہم سوں کی جو خاک برابر ہیں کب سر تو فرو لایا ہمت تری عالی ہے جب سر چڑھے ہوں ایسے تب عشق کریں سو بھی جوں توں یہ بلا سر سے فرہاد نے ٹالی ہے ان مغبچوں میں زاہد پھر سرزدہ مت آنا مندیل تری اب کے ہم نے تو بچالی ہے کیا میر تو روتا ہے پامالی دل ہی کو ان لونڈوں نے تو دلی سب سر پہ اٹھا لی ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR