Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

سینہ ہے چاک جگر پارہ ہے دل سب خوں ہے

سینہ ہے چاک جگر پارہ ہے دل سب خوں ہے تس پہ یہ جان بلب آمدہ بھی محزوں ہے اس سے آنکھوں کو ملا جی میں رہے کیونکر تاب چشم اعجاز مژہ سحر نگہ افسوں ہے آہ یہ رسم وفا ہووے برافتاد کہیں اس ستم پر بھی مرا دل اسی کا ممنوں ہے کبھو اس دشت سے اٹھتا ہے جو ایک ابر تنک گرد نمناک پریشاں شدئہ مجنوں ہے کیونکے بے بادہ لب جو پہ چمن میں رہیے عکس گل آب میں تکلیف مئے گلگوں ہے پار بھی ہو نہ کلیجے کے تو پھر کیا بلبل مصرع نالہ جگر کاوی ہے گو موزوں ہے شہر کتنا جو کوئی ان میں سرشک افشاں ہو روکش گریۂ غم حوصلۂ ہاموں ہے خون ہر یک رقم شوق سے ٹپکے تھا ولے وہ نہ سمجھا کہ مرے نامے کا کیا مضموں ہے میر کی بات پہ ہر وقت یہ جھنجھلایا نہ کر سڑی ہے خبطی ہے وہ شیفتہ ہے مجنوں ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR