Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

جہاں میں روز ہے آشوب اس کی قامت سے

جہاں میں روز ہے آشوب اس کی قامت سے اٹھے ہے فتنہ ہر اک شوخ تر قیامت سے موا ہوں ہو کے دل افسردہ رنج کلفت سے اگے ہے سبزئہ پژمردہ میری تربت سے جہاں ملے تہاں کافر ہی ہونا پڑتا ہے خدا پناہ میں رکھے بتوں کی صحبت سے تسلی ان نے نہ کی ایک دو سخن سے کبھو جو کوئی بات کہی بھی تو آدھی لکنت سے پلک کے مارتے ہم تو نظر نہیں آتے سخن کرو ہو عبث تم ہماری فرصت سے امیرزادوں سے دلی کے مل نہ تا مقدور کہ ہم فقیر ہوئے ہیں انھیں کی دولت سے یہ جہل دیکھ کہ ان سمجھے میں اٹھا لایا گراں وہ بار جو تھا بیش اپنی طاقت سے رہا نہ ہو گا بخود صانع ازل بھی تب بنایا ہو گا جب اس منھ کو دست قدرت سے وہ آنکھیں پھیرے ہی لیتا ہے دیکھتے کیا ہو معاملت ہے ہمیں دل کی بے مروت سے جو سوچے ٹک تو وہ مطلوب ہم ہی نکلے میر خراب پھرتے تھے جس کی طلب میں مدت سے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR