Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

ہم نے جانا تھا سخن ہوں گے زباں پر کتنے

ہم نے جانا تھا سخن ہوں گے زباں پر کتنے پر قلم ہاتھ جو آئی لکھے دفتر کتنے میں نے اس قطعۂ صناع سے سر کھینچا ہے کہ ہر اک کوچے میں جس کے تھے ہنر ور کتنے کشور عشق کو آباد نہ دیکھا ہم نے ہر گلی کوچے میں اوجڑ پڑے تھے گھر کتنے آہ نکلی ہے یہ کس کی ہوس سیر بہار آتے ہیں باغ میں آوارہ ہوئے پر کتنے دیکھیو پنجۂ مژگاں کی ٹک آتش دستی ہر سحر خاک میں ملتے ہیں در تر کتنے کب تلک یہ دل صد پارہ نظر میں رکھیے اس پر آنکھیں ہی سیے رہتے ہیں دلبر کتنے عمر گذری کہ نہیں دودئہ آدم سے کوئی جس طرف دیکھیے عرصے میں ہیں اب خر کتنے تو ہے بیچارہ گدا میر ترا کیا مذکور مل گئے خاک میں یاں صاحب افسر کتنے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR