Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

کل وعدہ گاہ میں سے جوں توں کے ہم کو لائے

کل وعدہ گاہ میں سے جوں توں کے ہم کو لائے ہونٹوں پہ جان آئی پر آہ وے نہ آئے زخموں پہ زخم جھیلے داغوں پہ داغ کھائے یک قطرہ خون دل نے کیا کیا ستم اٹھائے اس کی طرف کو ہم نے جب نامہ بر چلائے ان کا نشاں نہ پایا خط راہ میں سے پائے خوں بستہ جب تلک تھیں در یا رکے کھڑے تھے آنسو گرے کروڑوں پلکوں کے ٹک ہلائے اس جنگ جو کے زخمی اچھے نہ ہوتے دیکھے گل جب چمن میں آئے وے زخم سب دکھائے بڑھتیں نہیں پلک سے تا ہم تلک بھی پہنچیں پھرتی ہیں وے نگاہیں پلکوں کے سائے سائے پر کی بہار میں جو محبوب جلوہ گر تھے سو گردش فلک نے سب خاک میں ملائے ہر قطعۂ چمن پر ٹک گاڑ کر نظر کر بگڑیں ہزار شکلیں تب پھول یہ بنائے یک حرف کی بھی مہلت ہم کو نہ دی اجل نے تھا جی میں آہ کیا کیا پر کچھ نہ کہنے پائے چھاتی سراہ ان کی پائیز میں جنھوں نے خار و خس چمن سے ناچار دل لگائے آگے بھی تجھ سے تھا یاں تصویر کا سا عالم بے دردی فلک نے وے نقش سب مٹائے مدت ہوئی تھی بیٹھے جوش و خروش دل کو ٹھوکر نے اس نگہ کی آشوب پھر اٹھائے اعجاز عشق ہی سے جیتے رہے وگرنہ کیا حوصلہ کہ جس میں آزار یہ سمائے دل گر میاں انھوں کی غیروں سے جب نہ تب تھیں مجلس میں جب گئے ہم غیرت نے جی جلائے جیتے تو میر ہر شب اس طرز عمر گذری پھر گور پر ہماری لے شمع گو کہ آئے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR