Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

کرے کیا کہ دل بھی تو مجبور ہے

کرے کیا کہ دل بھی تو مجبور ہے زمیں سخت ہے آسماں دور ہے جرس راہ میں جملہ تن شور ہے مگر قافلے سے کوئی دور ہے تمناے دل کے لیے جان دی سلیقہ ہمارا تو مشہور ہے نہ ہو کس طرح فکر انجام کار بھروسا ہے جس پر سو مغرور ہے پلک کی سیاہی میں ہے وہ نگاہ کسو کا مگر خون منظور ہے دل اپنا نہایت ہے نازک مزاج گرا گر یہ شیشہ تو پھر چور ہے کہیں جو تسلی ہوا ہو یہ دل وہی بے قراری بدستور ہے نہ دیکھا کہ لوہو تھنبا ہو کبھو مگر چشم خونبار ناسور ہے تنک گرم تو سنگ ریزے کو دیکھ نہاں اس میں بھی شعلۂ طور ہے بہت سعی کریے تو مر رہیے میر بس اپنا تو اتنا ہی مقدور ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR