Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

ڈھونڈا نہ پایئے جو اس وقت میں سو زر ہے

ڈھونڈا نہ پایئے جو اس وقت میں سو زر ہے پھر چاہ جس کی مطلق ہے ہی نہیں ہنر ہے ہر دم قدم کو اپنے رکھ احتیاط سے یاں یہ کار گاہ ساری دکان شیشہ گر ہے ڈھاہا جنوں نے اس کو ان پر خرابی آئی جانا گیا اسی سے دل بھی کسو کا گھر ہے تجھ بن شکیب کب تک بے فائدہ ہوں نالاں مجھ نالہ کش کے تو اے فریادرس کدھر ہے صید افگنو ہمارے دل کو جگر کو دیکھو اک تیر کا ہدف ہے اک تیغ کا سپر ہے اہل زمانہ رہتے اک طور پر نہیں ہیں ہر آن مرتبے سے اپنے انھیں سفر ہے کافی ہے مہر قاتل محضر پہ خوں کے میرے پھر جس جگہ یہ جاوے اس جا ہی معتبر ہے تیری گلی سے بچ کر کیوں مہر و مہ نہ نکلیں ہر کوئی جانتا ہے اس راہ میں خطر ہے وے دن گئے کہ آنسو روتے تھے میر اب تو آنکھوں میں لخت دل ہے یا پارئہ جگر ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR