Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

نالے کا آج دل سے پھر لب تلک گذر ہے

نالے کا آج دل سے پھر لب تلک گذر ہے ٹک گوش رکھیو ایدھر ساتھ اس کے کچھ خبر ہے اے حب جاہ والو جو آج تاجور ہے کل اس کو دیکھیو تم نے تاج ہے نہ سر ہے اب کی ہواے گل میں سیرابی ہے نہایت جوے چمن پہ سبزہ مژگان چشم تر ہے اے ہم صفیر بے گل کس کو دماغ نالہ مدت ہوئی ہماری منقار زیر پر ہے شمع اخیر شب ہوں سن سرگذشت میری پھر صبح ہوتے تک تو قصہ ہی مختصر ہے اب رحم پر اسی کے موقوف ہے کہ یاں تو نے اشک میں سرایت نے آہ میں اثر ہے تو ہی زمام اپنی ناقے تڑا کہ مجنوں مدت سے نقش پا کے مانند راہ پر ہے ہم مست عشق واعظ بے ہیچ بھی نہیں ہیں غافل جو بے خبر ہیں کچھ ان کو بھی خبر ہے اب پھر ہمارا اس کا محشر میں ماجرا ہے دیکھیں تو اس جگہ کیا انصاف دادگر ہے آفت رسیدہ ہم کیا سر کھینچیں اس چمن میں جوں نخل خشک ہم کو نے سایہ نے ثمر ہے کر میر اس زمیں میں اور اک غزل تو موزوں ہے حرف زن قلم بھی اب طبع بھی ادھر ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR