Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

تنگ آئے ہیں دل اس جی سے اٹھا بیٹھیں گے

تنگ آئے ہیں دل اس جی سے اٹھا بیٹھیں گے بھوکوں مرتے ہیں کچھ اب یار بھی کھا بیٹھیں گے اب کے بگڑے گی اگر ان سے تو اس شہر سے جا کسو ویرانے میں تکیہ ہی بنا بیٹھیں گے معرکہ گرم تو ٹک ہونے دو خونریزی کا پہلے تلوار کے نیچے ہمیں جا بیٹھیں گے ہو گا ایسا بھی کوئی روز کہ مجلس سے کبھو ہم تو ایک آدھ گھڑی اٹھ کے جدا بیٹھیں گے جا نہ اظہار محبت پہ ہوسناکوں کی وقت کے وقت یہ سب منھ کو چھپا بیٹھیں گے دیکھیں وہ غیرت خورشید کہاں جاتا ہے اب سر راہ دم صبح سے آ بیٹھیں گے بھیڑ ٹلتی ہی نہیں آگے سے اس ظالم کے گردنیں یار کسی روز کٹا بیٹھیں گے کب تلک گلیوں میں سودائی سے پھرتے رہیے دل کو اس زلف مسلسل سے لگا بیٹھیں گے شعلہ افشاں اگر ایسی ہی رہی آہ تو میر گھر کو ہم اپنے کسو رات جلا بیٹھیں گے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR