Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

غیر نے ہم کو ذبح کیا نے طاقت ہے نے یارا ہے

غیر نے ہم کو ذبح کیا نے طاقت ہے نے یارا ہے اس کتے نے کرکے دلیری صید حرم کو مارا ہے باغ کو تجھ بن اپنے بھائیں آتش دی ہے بہاراں نے ہر غنچہ اخگر ہے ہم کو ہر گل ایک انگارا ہے جب تجھ بن لگتا ہے تڑپنے جائے ہے نکلا ہاتھوں سے ہے جو گرہ سینے میں اس کو دل کہیے یا پارہ ہے راہ حدیث جو ٹک بھی نکلے کون سکھائے ہم کو پھر روے سخن پر کس کو دے وہ شوخ بڑا عیارہ ہے کام اس کا ہے خوں افشانی ہر دم تیری فرقت میں چشم کو میری آکر دیکھ اب لوہو کا فوارہ ہے بال کھلے وہ شب کو شاید بستر ناز پہ سوتا تھا آئی نسیم صبح جو ایدھر پھیلا عنبر سارا ہے کس دن دامن کھینچ کے ان نے یار سے اپنا کام لیا مدت گذری دیکھتے ہم کو میر بھی اک ناکارہ ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR