Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

گذار ابر اب بھی جب کبھو ایدھر کو ہوتا ہے

گذار ابر اب بھی جب کبھو ایدھر کو ہوتا ہے ہماری بیکسی پر زار باراں دیر روتا ہے ہوا مذکور نام اس کا کہ آنسو بہ چلے منھ پر ہمارے کام سارے دیدۂ تر ہی ڈبوتا ہے بجا ہے سینہ کوبی سنگ سے دل خون ہوتے ہیں جو ہمدم ایسے جاتے ہیں تو ماتم سخت ہوتا ہے نہ کی نشوونما کامل نہ کام اپنا کیا حاصل فلک کوئی بھی دل سے تخم کو بے وقت بوتا ہے ہلانا ابروئوں کا لے ہے زیر تیغ عاشق کو پلک کا مارنا برچھی کلیجے میں چبھوتا ہے کہاں اے رشک آب زندگی ہے تو کہ یاں تجھ بن ہر اک پاکیزہ گوہر جی سے اپنے ہاتھ دھوتا ہے لگا مردے کو میرے دیکھ کر وہ ناسمجھ کہنے جوانی کی ہے نیند اس کو کہ اس غفلت سے سوتا ہے پریشاں گرد سا گاہے جو مل جاتا ہے صحرا میں اسی کی جستجو میں خضر بھی اوقات کھوتا ہے نہ رکھو کان نظم شاعران حال پر اتنے چلو ٹک میر کو سننے کہ موتی سے پروتا ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR