Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

جب نام ترا لیجیے تب چشم بھر آوے

جب نام ترا لیجیے تب چشم بھر آوے اس زندگی کرنے کو کہاں سے جگر آوے تلوار کا بھی مارا خدا رکھے ہے ظالم یہ تو ہو کوئی گور غریباں میں در آوے میخانہ وہ منظر ہے کہ ہر صبح جہاں شیخ دیوار پہ خورشید کا مستی سے سر آوے کیا جانیں وے مرغان گرفتار چمن کو جن تک کہ بصد ناز نسیم سحر آوے تو صبح قدم رنجہ کرے ٹک تو ہے ورنہ کس واسطے عاشق کی شب غم بسر آوے ہر سو سر تسلیم رکھے صید حرم ہیں وہ صید فگن تیغ بکف تا کدھر آوے دیواروں سے سر مارتے پھرنے کا گیا وقت اب تو ہی مگر آپ کبھو در سے در آوے واعظ نہیں کیفیت میخانہ سے آگاہ یک جرعہ بدل ورنہ یہ مندیل دھر آوے صناع ہیں سب خوار ازاں جملہ ہوں میں بھی ہے عیب بڑا اس میں جسے کچھ ہنر آوے اے وہ کہ تو بیٹھا ہے سر راہ پہ زنہار کہیو جو کبھو میر بلاکش ادھر آوے مت دشت محبت میں قدم رکھ کہ خضر کو ہر گام پہ اس رہ میں سفر سے حذر آوے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR