Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

یارب کوئی ہو عشق کا بیمار نہ ہووے

یارب کوئی ہو عشق کا بیمار نہ ہووے مر جائے ولے اس کو یہ آزار نہ ہووے زنداں میں پھنسے طوق پڑے قید میں مر جائے پر دام محبت میں گرفتار نہ ہووے اس واسطے کانپوں ہوں کہ ہے آہ نپٹ سرد یہ بائو کلیجے کے کہیں پار نہ ہووے صد نالۂ جانکاہ ہیں وابستہ چمن سے کوئی بال شکستہ پس دیوار نہ ہووے پژمردہ بہت ہے گل گلزار ہمارا شرمندئہ یک گوشۂ دستار نہ ہووے مانگے ہے دعا خلق تجھے دیکھ کے ظالم یارب کسو کو اس سے سروکار نہ ہووے کس شکل سے احوال کہوں اب میں الٰہی صورت سے مری جس میں وہ بیزار نہ ہووے ہوں دوست جو کہتا ہوں سن اے جان کے دشمن بہتر تو تجھے ترک ہے تا خوار نہ ہووے خوباں برے ہوتے ہیں اگرچہ ہیں نکورو بے جرم کہیں ان کا گنہگار نہ ہووے باندھے نہ پھرے خون پر اپنی تو کمر کو یہ جان سبک تن پہ ترے بار نہ ہووے چلتا ہے رہ عشق ہی اس پر بھی چلے تو پر ایک قدم چل کہیں زنہار نہ ہووے صحراے محبت ہے قدم دیکھ کے رکھ میر یہ سیر سر کوچہ و بازار نہ ہووے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR