Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

اس اسیری کے نہ کوئی اے صبا پالے پڑے

اس اسیری کے نہ کوئی اے صبا پالے پڑے اک نظر گل دیکھنے کے بھی ہمیں لالے پڑے حسن کو بھی عشق نے آخر کیا حلقہ بگوش رفتہ رفتہ دلبروں کے کان میں بالے پڑے مت نگاہ مست کو تکلیف کر ساقی زیاد ہر طرف تو ہیں گلی کوچوں میں متوالے پڑے کیونکے طے ہو دشت شوق آخر کو مانند سر شک میرے پائوں میں تو پہلے ہی قدم چھالے پڑے جوش مارا اشک خونیں نے مرے دل سے زبس گھر میں ہمسایوں کے شب لوہو کے پرنالے پڑے ہیں بعینہ ویسے جوں پردہ کرے ہے عنکبوت روتے روتے بسکہ میری آنکھوں میں جالے پڑے گرمجوشی سے مرے گریے کی شب آنکھوں کی راہ گوشۂ دامن میں میر آتش کے پرکالے پڑے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR