Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

تجھ سے دوچار ہو گا جو کوئی راہ جاتے

تجھ سے دوچار ہو گا جو کوئی راہ جاتے پھر عمر چاہیے گی اس کو بحال آتے گر دل کی بے قراری ہوتی یہی جو اب ہے تو ہم ستم رسیدہ کاہے کو جینے پاتے وے دن گئے کہ اٹھ کر جاتے تھے اس گلی میں اب سعی چاہیے ہے بالیں سے سر اٹھاتے کب تھی ہمیں تمنا اے ضعف یہ کہ تڑپیں پر زیر تیغ اس کی ہم ٹک تو سر ہلاتے گر جانتے کہ یوں ہی برباد جائیں گے تو کاہے کو خاک میں ہم اپنے تئیں ملاتے شاید کہ خون دل کا پہنچا ہے وقت آخر تھم جاتے ہیں کچھ آنسو راتوں کو آتے آتے اس سمت کو پلٹتی تیری نگہ تو ساقی حال خراب مجلس ہم شیخ کو دکھاتے جی دینا دل دہی سے بہتر تھا صدمراتب اے کاش جان دیتے ہم بھی نہ دل لگاتے شب کوتہ اور قصہ ان کا دراز ورنہ احوال میر صاحب ہم تجھ کو سب سناتے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR