Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

بے یار شہر دل کا ویران ہورہا ہے

بے یار شہر دل کا ویران ہورہا ہے دکھلائی دے جہاں تک میدان ہورہا ہے اس منزل جہاں کے باشندے رفتنی ہیں ہر اک کے ہاں سفر کا سامان ہورہا ہے اچھا لگا ہے شاید آنکھوں میں یار اپنی آئینہ دیکھ کر کچھ حیران ہورہا ہے ٹک زیر طاق نیلی وسواس سے رہا کر مدت سے گرنے پر یہ ایوان ہورہا ہے گل دیکھ کر چمن میں تجھ کو کھلا ہی جا ہے یعنی ہزار جی سے قربان ہورہا ہے حال زبون اپنا پوشیدہ کچھ نہ تھا تو سنتا نہ تھا کہ یہ صید بے جان ہورہا ہے ظالم ادھر کی سدھ لے جوں شمع صبح گاہی ایک آدھ دم کا عاشق مہمان ہورہا ہے قرباں گہ محبت وہ جا ہے جس میں ہر سو دشوار جان دینا آسان ہورہا ہے ہر شب گلی میں اس کی روتے تو رہتے ہو تم اک روز میر صاحب طوفان ہورہا ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR