Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

کس طور ہمیں کوئی فریبندہ لبھالے

کس طور ہمیں کوئی فریبندہ لبھالے آخر ہیں تری آنکھوں کے ہم دیکھنے والے سو ظلم اٹھائے تو کبھو دور سے دیکھا ہرگز نہ ہوا یہ کہ ہمیں پاس بلا لے اس شوخ کی سرتیز پلک ہیں کہ وہ کانٹا گڑ جائے اگر آنکھ میں سر دل سے نکالے عشق ان کو ہے جو یار کو اپنے دم رفتن کرتے نہیں غیرت سے خدا کے بھی حوالے وے دن گئے جو ضبط کی طاقت تھی ہمیں بھی اب دیدئہ خوں بار نہیں جاتے سنبھالے احوال بہت تنگ ہے اے کاش محبت اب دست تلطف کو مرے سر سے اٹھالے دعواے قیامت کا مرے خوف اسے کیا اک لطف میں وہ مجھ سے تنک رو کو منالے کہتے ہیں حجاب رخ دلدار ہے ہستی دیکھیں گے اگر یوں ہے بھلا جان بھی جا لے میر اس سے نہ مل آہ کہ ڈرتے ہیں مبادا بیباک ہے وہ شوخ کہیں مار نہ ڈالے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR