Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

گئے جی سے چھوٹے بتوں کی جفا سے

گئے جی سے چھوٹے بتوں کی جفا سے یہی بات ہم چاہتے تھے خدا سے وہ اپنی ہی خوبی پہ رہتا ہے نازاں مرو یا جیو کوئی اس کی بلا سے کوئی ہم سے کھلتے ہیں بند اس قبا کے یہ عقدے کھلیں گے کسو کی دعا سے پشیمان توبہ سے ہو گا عدم میں کہ غافل چلا شیخ لطف ہوا سے نہ رکھی مری خاک بھی اس گلی میں کدورت مجھے ہے نہایت صبا سے جگر سوے مژگاں کھنچا جائے ہے کچھ مگر دیدئہ تر ہیں لوہو کے پیاسے اگر چشم ہے تو وہی عین حق ہے تعصب تجھے ہے عجب ماسوا سے طبیب سبک عقل ہرگز نہ سمجھا ہوا درد عشق آہ دونا دوا سے ٹک اے مدعی چشم انصاف وا کر کہ بیٹھے ہیں یہ قافیے کس ادا سے نہ شکوہ شکایت نہ حرف و حکایت کہو میر جی آج کیوں ہو خفا سے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR