Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

گل گشت کی ہوس تھی سو تو بگیر آئے

گل گشت کی ہوس تھی سو تو بگیر آئے آئے جو ہم چمن میں ہوکر اسیر آئے فرصت میں یک نفس کی کیا درد دل سنوگے آئے تو تم ولیکن وقت اخیر آئے دلی میں اب کے آکر ان یاروں کو نہ دیکھا کچھ وے گئے شتابی کچھ ہم بھی دیر آئے کیا خوبی اس چمن کی موقوف ہے کسو پر گل گر گئے عدم کو مکھڑے نظیر آئے شکوہ نہیں جو اس کو پروا نہ ہو ہماری دروازے جس کے ہم سے کتنے فقیر آئے عمر دراز کیونکر مختار خضر ہے یاں ایک آدھ دن میں ہم تو جینے سے سیر آئے نزدیک تھی قفس میں پرواز روح اپنی غنچے ہو گلبنوں پر جب ہم صفیر آئے یوں بیٹھے بیٹھے ناگہ گردن لگے ہلانے سر شیخ جی کے گویا مجلس میں پیر آئے قامت خمیدہ اپنی جیسے کماں تھی لیکن قرباں گہ وفا میں مانند تیر آئے بن جی دیے نہیں ہے امکان یاں سے جانا بسمل گہ جہاں میں اب ہم تو میر آئے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR