Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

کس حسن سے کہوں میں اس کی خوش اختری کی

کس حسن سے کہوں میں اس کی خوش اختری کی اس ماہرو کے آگے کیا تاب مشتری کی رکھنا نہ تھا قدم یاں جوں باد بے تامل سیر اس جہاں کی رہرو پر تونے سرسری کی شبہا بحال سگ میں اک عمر صرف کی ہے مت پوچھ ان نے مجھ سے جو آدمی گری کی پاے گل اس چمن میں چھوڑا گیا نہ ہم سے سر پر ہمارے اب کے منت ہے بے پری کی پیشہ تو ایک ہی تھا اس کا ہمارا لیکن مجنوں کے طالعوں نے شہرت میں یاوری کی گریے سے داغ سینہ تازہ ہوئے ہیں سارے یہ کشت خشک تونے اے چشم پھر ہری کی یہ دور تو موافق ہوتا نہیں مگر اب رکھیے بناے تازہ اس چرخ چنبری کی خوباں تمھاری خوبی تاچند نقل کریے ہم رنجہ خاطروں کی کیا خوب دلبری کی ہم سے جو میر اڑ کر افلاک چرخ میں ہیں ان خاک میں ملوں کی کاہے کو ہمسری کی

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR