Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

غم سے یہ راہ میں نے نکالی نجات کی

غم سے یہ راہ میں نے نکالی نجات کی سجدہ اس آستاں کا کیا پھر وفات کی نسبت تو دیتے ہیں ترے لب سے پر ایک دن ناموس یوں ہی جائے گی آب حیات کی صد حرف زیر خاک تہ دل چلے گئے مہلت نہ دی اجل نے ہمیں ایک بات کی ہم تو ہی اس زمانے میں حیرت سے چپ نہیں اب بات جاچکی ہے سبھی کائنات کی پژمردہ اس کلی کے تئیں وا شدن سے کیا آہ سحر نے دل پہ عبث التفات کی حور و پری فرشتہ بشر مار ہی رکھا دزدیدہ تیرے دیکھنے نے جس پہ گھات کی اس لب شکر کے ہیں گے جہاں ذائقہ شناس اس جا دعا پہنچتی نہیں ہے نبات کی عرصہ ہے تنگ چال نکلتی نہیں ہے اور جو چال پڑتی ہے سو وہ بازی کی مات کی برقع اٹھا تھا یار کے منھ کا سو میر کل سنتے ہیں آفتاب نے جوں توں کے رات کی

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR