Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

کل بارے ہم سے اس سے ملاقات ہو گئی

کل بارے ہم سے اس سے ملاقات ہو گئی دو دو بچن کے ہونے میں اک بات ہو گئی کن کن مصیبتوں سے ہوئی صبح شام ہجر سو زلفیں ہی بناتے اسے رات ہو گئی گردش نگاہ مست کی موقوف ساقیا مسجد تو شیخ جی کی خرابات ہو گئی ڈر ظلم سے کہ اس کی جزا بس شتاب ہے آیا عمل میں یاں کہ مکافات ہو گئی خورشید سا پیالۂ مے بے طلب دیا پیر مغاں سے رات کرامات ہو گئی کتنا خلاف وعدہ ہوا ہو گا وہ کہ یاں نومیدی و امید مساوات ہو گئی آ شیخ گفتگوے پریشاں پہ تو نہ جا مستی میں اب تو قبلۂ حاجات ہو گئی ٹک شہر سے نکل کے مرا گریہ سیر کر گویا کہ کوہ و دشت پہ برسات ہو گئی دیدار کی گرسنگی اپنی یہیں سے دیکھ اک ہی نگاہ یاروں کی اوقات ہو گئی اپنے تو ہونٹ بھی نہ ہلے اس کے روبرو رنجش کی وجہ میر وہ کیا بات ہو گئی

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR