Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

غفلت میں گئی آہ مری ساری جوانی

غفلت میں گئی آہ مری ساری جوانی اے عمر گذشتہ میں تری قدر نہ جانی تھی آبلۂ دل سے ہمیں تشنگی میں چشم پھوٹا تو نہ آیا نظر اک بوند بھی پانی مدت سے ہیں اک مشت پر آوارہ چمن میں نکلی ہے یہ کس کی ہوس بال فشانی بھاتی ہے مجھے اک طلب بوسہ میں یہ آن لکنت سے الجھ جا کے اسے بات نہ آنی کیا جانیے کیا کیا میں لکھوں شوق میں قاصد پڑھنا نہ کرے خط کا کہیں اس پہ گرانی تکلیف نہ کر نامہ کے لکھنے کی تو مجھ کو آجائے جو کچھ جی میں ترے کہیو زبانی یہ جان اگر بید مولہ کہیں دیکھے باقی ہے کسو موے پریشاں کی نشانی دیکھیں تو سہی کب تئیں نبھتی ہے یہ صحبت ہم جی سے ترے دوست ہیں تو دشمن جانی مجنوں بھی نہ رسواے جہاں ہوتا نہ وہ آپ مکتب میں جو کم آتی پہ لیلیٰ تھی دوانی اک شخص مجھی سا تھا کہ وہ تجھ پہ تھا عاشق وہ اس کی وفاپیشگی وہ اس کی جوانی یہ کہہ کے جو رویا تو لگا کہنے نہ کہہ میر سنتا نہیں میں ظلم رسیدوں کی کہانی

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR