Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

رہی نگفتہ مرے دل میں داستاں میری

رہی نگفتہ مرے دل میں داستاں میری نہ اس دیار میں سمجھا کوئی زباں میری برنگ صوت جرس تجھ سے دور ہوں تنہا خبر نہیں ہے تجھے آہ کارواں میری ترے نہ آج کے آنے میں صبح کے مجھ پاس ہزار جاے گئی طبع بدگماں میری وہ نقش پاے ہوں میں مٹ گیا ہو جو رہ میں نہ کچھ خبر ہے نہ سدھ ہے گی رہرواں میری شب اس کے کوچے میں جاتا ہوں اس توقع پر کہ ایک دوست ہے واں خواب پاسباں میری اسی سے دور رہا اصل مدعا جو تھا گئی یہ عمرعزیز آہ رائیگاں میری ترے فراق میں جیسے خیال مفلس کا گئی ہے فکر پریشاں کہاں کہاں میری نہیں ہے تاب و تواں کی جدائی کا اندوہ کہ ناتوانی بہت ہے مزاج داں میری رہا میں در پس دیوار باغ مدت لیک گئی گلوں کے نہ کانوں تلک فغاں میری ہوا ہوں گریۂ خونیں کا جب سے دامن گیر نہ آستین ہوئی پاک دوستاں میری دیا دکھائی مجھے تو اسی کا جلوہ میر پڑی جہان میں جاکر نظر جہاں میری

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR