Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

آگے ہمارے عہد سے وحشت کو جا نہ تھی

آگے ہمارے عہد سے وحشت کو جا نہ تھی دیوانگی کسو کی بھی زنجیر پا نہ تھی بیگانہ سا لگے ہے چمن اب خزاں میں ہائے ایسی گئی بہار مگر آشنا نہ تھی کب تھا یہ شور نوحہ ترا عشق جب نہ تھا دل تھا ہمارا آگے تو ماتم سرا نہ تھی وہ اور کوئی ہو گی سحر جب ہوئی قبول شرمندئہ اثر تو ہماری دعا نہ تھی آگے بھی تیرے عشق سے کھینچے تھے درد و رنج لیکن ہماری جان پر ایسی بلا نہ تھی دیکھے دیار حسن کے میں کارواں بہت لیکن کسو کے پاس متاع وفا نہ تھی آئی پری سی پردئہ مینا سے جام تک آنکھوں میں تیری دختر رز کیا حیا نہ تھی اس وقت سے کیا ہے مجھے تو چراغ وقف مخلوق جب جہاں میں نسیم و صبا نہ تھی پژمردہ اس قدر ہیں کہ ہے شبہ ہم کو میر تن میں ہمارے جان کبھو تھی بھی یا نہ تھی

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR