میر تقی میر
تو گلے ملتا نہیں ہم سے تو کیسی خرمی
تو گلے ملتا نہیں ہم سے تو کیسی خرمی
عید آئی یاں ہمارے بر میں جامہ ماتمی
جی بھرا رہتا ہے اب آٹھوں پہر مانند ابر
سینکڑوں طوفاں بغل میں ہے یہ مژگاں ماتمی
حشر کو زیر و زبر ہو گا جہاں سچ ہے ولے
ہے قیامت شیخ جی اس کارگہ کی برہمی
تجھ سوا محبوب آتش طبع اے ساقی نہیں
ہو پرستاروں میں تیرے گر پری ہو آدمی
سامنے ہوجائیں اے ظالم تو دونوں ہیں برے
وہ دم شمشیر تیرا یہ ہماری بے دمی
اس قیامت جلوہ سے بہتیرے ہم سے جی اٹھیں
مر گئے تو مر گئے ہم اس کی کیا ہو گی کمی
کچھ پریشانی سی ہے سنبل کی جو الجھے ہے میر
یک جہاں برہم کرے زلفوں کی اس کی درہمی