Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

گئی چھائوں اس تیغ کی سر سے جب کی

گئی چھائوں اس تیغ کی سر سے جب کی جلے دھوپ میں یاں تلک ہم کہ تب کی پڑی خرمن گل پہ بجلی سی آخر مرے خوش نگہ کی نگاہ اک غضب کی کوئی بات نکلے ہے دشوار منھ سے ٹک اک تو بھی تو سن کسی جاں بلب کی تو شملہ جو رکھتا ہے خر ہے وگرنہ ضرورت ہے کیا شیخ دم اک وجب کی یکایک بھی آ سر پہ واماندگاں کے بہت دیکھتے ہیں تری راہ کب کی دماغ و جگر دل مخالف ہوئے ہیں ہوئی متفق اب ادھر رائے سب کی تجھے کیونکے ڈھونڈوں کہ سوتے ہی گذری تری راہ میں اپنے پاے طلب کی دل عرش سے گذرے ہے ضعف میں بھی یہ زور آوری دیکھو زاری شب کی عجب کچھ ہے گر میر آوے میسر گلابی شراب اور غزل اپنے ڈھب کی

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR