Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

یکسو کشادہ روئی پرچیں نہیں جبیں بھی

یکسو کشادہ روئی پرچیں نہیں جبیں بھی ہم چھوڑی مہر اس کی کاش اس کو ہووے کیں بھی آنسو تو تیرے دامن پونچھے ہے وقت گریہ ہم نے نہ رکھی منھ پر اے ابر آستیں بھی کرتا نہیں عبث تو پارہ گلو فغاں سے گذرے ہے پار دل کے اک نالۂ حزیں بھی ہوں احتضار میں میں آئینہ رو شتاب آ جاتا ہے ورنہ غافل پھر دم تو واپسیں بھی سینے سے تیر اس کا جی کو تو لیتا نکلا پر ساتھوں ساتھ اس کے نکلی اک آفریں بھی ہر شب تری گلی میں عالم کی جان جا ہے آگے ہوا ہے اب تک ایسا ستم کہیں بھی شوخی جلوہ اس کی تسکین کیونکے بخشے آئینوں میں دلوں کے جو ہے بھی پھر نہیں بھی گیسو ہی کچھ نہیں ہے سنبل کی آفت اس کا ہیں برق خرمن گل رخسار آتشیں بھی تکلیف نالہ مت کر اے درد دل کہ ہوں گے رنجیدہ راہ چلتے آزردہ ہم نشیں بھی کس کس کا داغ دیکھیں یارب غم بتاں میں رخصت طلب ہے جاں بھی ایمان اور دیں بھی زیر فلک جہاں ٹک آسودہ میر ہوتے ایسا نظر نہ آیا اک قطعۂ زمیں بھی

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR