Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

فرصت نہیں تنک بھی کہیں اضطراب کو

فرصت نہیں تنک بھی کہیں اضطراب کو کیا آفت آگئی مرے اس دل کی تاب کو میری ہی چشم تر کی کرامات ہے یہ سب پھرتا تھا ورنہ ابر تو محتاج آب کو گذری ہے شب خیال میں خوباں کے جاگتے آنکھیں لگا کے اس سے میں ترسوں ہوں خواب کو خط آگیا پر اس کا تغافل نہ کم ہوا قاصد مرا خراب پھرے ہے جواب کو تیور میں جب سے دیکھے ہیں ساقی خمار کے پیتا ہوں رکھ کے آنکھوں پہ جام شراب کو اب تو نقاب منھ پہ لے ظالم کہ شب ہوئی شرمندہ سارے دن تو کیا آفتاب کو کہنے سے میر اور بھی ہوتا ہے مضطرب سمجھائوں کب تک اس دل خانہ خراب کو

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR