Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

جو میں نہ ہوں تو کرو ترک ناز کرنے کو

جو میں نہ ہوں تو کرو ترک ناز کرنے کو کوئی تو چاہیے جی بھی نیاز کرنے کو نہ دیکھو غنچۂ نرگس کی اور کھلتے میں جو دیکھو اس کی مژہ نیم باز کرنے کو نہ سوئے نیند بھر اس تنگنا میں تا نہ موئے کہ آہ جا نہ تھی پا کے دراز کرنے کو جو بے دماغی یہی ہے تو بن چکی اپنی دماغ چاہیے ہر اک سے ساز کرنے کو وہ گرم ناز ہو تو خلق پر ترحم کر پکارے آپ اجل احتراز کرنے کو جو آنسو آویں تو پی جا کہ تا رہے پردہ بلا ہے چشم تر افشاے راز کرنے کو سمند ناز سے تیرے بہت ہے عرصہ تنگ تنک تو ترک کر اس ترک تاز کرنے کو بسان زر ہے مرا جسم زار سارا زرد اثر تمام ہے دل کے گداز کرنے کو ہنوز لڑکے ہو تم قدر میری کیا جانو شعور چاہیے ہے امتیاز کرنے کو اگرچہ گل بھی نمود اس کے رنگ کرتا ہے ولیک چاہیے ہے منھ بھی ناز کرنے کو زیادہ حد سے تھی تابوت میر پر کثرت ہوا نہ وقت مساعد نماز کرنے کو

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR