Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

ایسا ہے ماہ گو کہ وہ سب نور کیوں نہ ہو

ایسا ہے ماہ گو کہ وہ سب نور کیوں نہ ہو ویسا ہے پھول فرض کیا حور کیوں نہ ہو کھویا ہمارے ہاتھ سے آئینے نے اسے ایسا جو پاوے آپ کو مغرور کیوں نہ ہو حق برطرف ہے منکر دیدار یار کے جو شخص ہووے آنکھوں سے معذور کیوں نہ ہو گیسوے مشک بو کو اسے ضد ہے کھولنا پھر زخم دل فگاروں کا ناسور کیوں نہ ہو صورت تو تیری صفحۂ خاطر پہ نقش ہے ظاہر میں اب ہزار تو مستور کیوں نہ ہو صافی شست سے ہے غرض مشق تیر سے سینہ کسو کا خانۂ زنبور کیوں نہ ہو مجنوں جو دشت گرد تھا ہم شہر گرد ہیں آوارگی ہماری بھی مذکور کیوں نہ ہو تلوار کھینچتا ہے وہ اکثر نشے کے بیچ زخمی جو اس کے ہاتھ کا ہو چور کیوں نہ ہو خالی نہیں بغل کوئی دیوان سے مرے افسانہ عشق کا ہے یہ مشہور کیوں نہ ہو مجھ کو تو یہ قبول ہوا عشق میں کہ میر پاس اس کے جب گیا تو کہا دور کیوں نہ ہو

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR