Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

دن گذرتا ہے مجھے فکر ہی میں تا کیا ہو

دن گذرتا ہے مجھے فکر ہی میں تا کیا ہو رات جاتی ہے اسی غم میں کہ فردا کیا ہو سب ہیں دیدار کے مشتاق پر اس سے غافل حشر برپا ہو کہ فتنہ اٹھے آیا کیا ہو خاک حسرت زدگاں پر تو گذر بے وسواس ان ستم کشتوں سے اب عرض تمنا کیا ہو گر بہشت آوے تو آنکھوں میں مری پھیکی لگے جن نے دیکھا ہو تجھے محو تماشا کیا ہو شوق جاتا ہے ہمیں یار کے کوچے کو لیے جاکے معلوم ہو کیا جانیے اس جا کیا ہو ایک رونا ہی نہیں آہ و غم و نالہ و درد ہجر میں زندگی کرنے کے تئیں کیا کیا ہو خاک میں لوٹوں کہ لوہو میں نہائوں میں میر یار مستغنی ہے اس کو مری پروا کیا ہو

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR