Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

آرام ہوچکا مرے جسم نزار کو

آرام ہوچکا مرے جسم نزار کو رکھے خدا جہاں میں دل بے قرار کو پانی پہ جیسے غنچۂ لالہ پھرے بہا دیکھا میں آنسوئوں میں دل داغدار کو برسا تو میرے دیدئہ خوں بار کے حضور پر اب تک انفعال ہے ابربہار کو ہنستا ہی میں پھروں جو مرا کچھ ہو اختیار پر کیا کروں میں دیدئہ بے اختیار کو آیا جہاں میں دوست بھی ہوتے ہیں یک دگر مجھ سے جو دشمنی ہی رہی میرے یار کو سو باریوں تو غیروں سے کرتے ہو ہنس کے بات کچھ منھ بنا رہو ہو ہماری ہی بار کو سر گشتگی سوائے نہ دیکھا جہاں میں کچھ اک عمر خضر سیر کیا اس دیار کو کس کس کی خاک اب کی ملانی ہے خاک میں جاتی ہے پھر نسیم اسی رہگذار کو اے وہ کوئی جو آج پیے ہے شراب عیش خاطر میں رکھیو کل کے بھی رنج و خمار کو خوباں کا کیا جگر جو کریں مجھ کو اپنا صید پہچانتا ہے سب کوئی تیرے شکار کو جیتے جی فکر خوب ہے ورنہ یہ بدبلا رکھے گا حشر تک تہ و بالا مزار کو گر ساتھ لے گڑا تو دل مضطرب تو میر آرام ہوچکا ترے مشت غبار کو

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR