Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

کیا ظلم کیا تعدی کیا جور کیا جفائیں

کیا ظلم کیا تعدی کیا جور کیا جفائیں اس چرخ نے کیاں ہیں ہم سے بہت ادائیں دیکھا کہاں وہ نسخہ اک روگ میں بساہا جی بھر کبھو نہ پنپا بہتیری کیں دوائیں اک رنگ گل نے رہنا یاں یوں نہیں کیا ہے اس گلشن جہاں میں ہیں مختلف ہوائیں ہے فرش عرش تک بھی قلب حزیں کا اپنے اس تنگ گھر میں ہم نے دیکھی ہیں کیا فضائیں چہرے کے زخم ناخن کے سے کہاں کہ گویا گھر سے نکلتے ہی ہم تلواریں منھ پہ کھائیں شب نالہ آسماں تک جی سخت کرکے پہنچا تھیں نیم کشتۂ یاس اکثر مری دعائیں روکش تو ہو ترا پر آئینے میں کہاں یہ رعنائیاں ادائیں رنگینیاں صفائیں ہے امر سہل چاہت لیکن نباہ مشکل پتھر کرے جگر کو تب تو کرے وفائیں ناز بتان سادہ ہے اللہ اللہ اے میر ہم خط سے مٹ گئے پر ان کے نہیں ہے بھائیں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR