Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

یہ غلط کہ میں پیا ہوں قدح شراب تجھ بن

یہ غلط کہ میں پیا ہوں قدح شراب تجھ بن نہ گلے سے میرے اترا کبھو قطرہ آب تجھ بن یہی بستی عاشقوں کی کبھو سیر کرنے چل تو کہ محلے کے محلے پڑے ہیں خراب تجھ بن میں لہو پیوں ہوں غم میں عوض شراب ساقی شب میغ ہو گئی ہے شب ماہتاب تجھ بن گئی عمر میری ساری جیسے شمع بائو کے بیچ یہی رونا جلنا گلنا یہی اضطراب تجھ بن سبھی آتشیں ہیں نالے سبھی زمہریری آہیں مری جان پر رہا ہے غرض اک عذاب تجھ بن ترے غم کا شکر نعمت کروں کیا اے مغبچے میں نہ ہوا کہ میں نہ کھایا جگر کباب تجھ بن نہیں جیتے جی تو ممکن ہمیں تجھ بغیر سونا مگر آنکہ مر کے کیجے تہ خاک خواب تجھ بن برے حال ہوکے مرتا جو درنگ میر کرتا یہ بھلا ہوا ستمگر کہ موا شتاب تجھ بن

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR